کاروار20؍نومبر (ایس او نیوز) ساحلی علاقے کے جنوبی کینرا، اڈپی اور شمالی کینرا جیسے تینوں اضلاع میں ریت نکالنے کی پالیسی اور سی آر زیڈ قانون کی توسیع کی وجہ سے ایک طرف عوام کو ذاتی تعمیرات کے لئے بہت زیادہ رکاوٹ پیش آرہی ہے تو دوسری طرف ریت نکالنے اور اسے فروخت کرنے کے کاروبار میں لگے ہوئے سیکڑوں افراد کے لئے بڑ ے مشکل دنوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ سرکاری منصوبوں کی تکمیل میں بھی تاخیر ہوتی جارہی ہے، جس سے ٹھیکیدار پریشان ہوگئے ہیں۔
کاروار تعلقہ میں ریت نکالنے اور اسے سپلائی کرنے پر لگی ہوئی پابندیوں کے خلاف سول انجینئرز ایسوسی ایشن اور دبہت سی تعمیراتی ٹھیکے داروں کی انجمنوں کے بینر تلے ہزاروں افراد نے احتجاجی ریالی نکالتے ہوئے ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو ایک دن کی علامتی بھوک ہڑتال کے ساتھ مطالبہ کیا کہ انہیں ریت فراہم کی جائے۔احتجاجیوں نے سرکاری پالیسی کے خلاف نعرے بازی کی۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کاروار کی رکن اسمبلی روپالی نائک (بی جے پی) نے ریاستی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حالانکہ اس کی بے پروائی کی وجہ سے کاروار تعلقہ میں ندیوں سے ریت نکالنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔لیکن ریاستی حکومت اس کے لئے مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دے کراسے بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔جو کام ابتدائی مرحلے میں ریاستی حکومت کو کرنا چاہیے تھا اسے بھول کر اب عوام کو گمراہ کرنے کے کام میں لگ گئی ہے۔
رکن اسمبلی روپالی نے مزید کہا کہ پارٹی مفادات سے بالاتر ہوکر حل کرنے لائق اس سنگین مسئلے پر سیاست کرتے ہوئے ضلع انچارج وزیر مرکزی حکومت پر انگلی اٹھانے کا کام کررہے ہیں۔ اس طرح مرکزی حکومت کے خلاف غلط پیغام عوام کو دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس موقع پرسول انجینئرز ایسوسی ایشن کے بانی صدرکرشنانند باندیکر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروار تعلقہ کی آدھی سے زیادہ آبادی عمارتوں کی تعمیرسے متعلقہ مختلف شعبہ جات میں اپنی اپنی مہارت کے مطابق کام کیا کرتی ہے۔ اور اب جبکہ ریت نکالنے پر پابندی ہے اور اس کی فراہمی نہیں ہورہی ہے تو تعمیراتی کاموں میں سے اپنی روزی روٹی کمانے والے خاندان بے روزگاری کی وجہ سے سڑک پر آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ اپنے سرکاری منصوبوں کے لئے ریت کے ذخیرے لگائے رکھنے کے بجائے اسے عوام کو ریت کی کمی سے دشواری نہ ہونے جیسے اقدامات کرنے چاہیے۔کیونکہ سرکار سے زیادہ عوام اورغریب مزدوروں کے لئے اس وقت ریت کی شدید ضرورت ہے۔ لیکن ضلع انتظامیہ اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کررہی ہے۔حکومت بس ایک ہی صلاح دیتی ہے کہ روایتی طور پر ندیوں سے نکالی گئی ریت کے بجائے ایم سیانڈ(گرانائٹ پتھروں کو توڑ کر بنائی گئی مصنوعی ریت) استعمال کریں۔